بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران کے ساتھ مذاکرات میں ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وِٹکاف نے فاکس نیوز کو امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا واقعہ سنایا جو درحقیقت اس ملک کے حکمرانوں کے عالمی نظریئے کی مکمل امریکی داستان کو واضح کر دیتا ہے؛ وہی جو امریکی حکمرانوں کا روایتی بیانیہ بھی ہے۔ اس روایتی بیانیے میں، "وہ اتنے طاقتور ہیں کہ ان کی طرف سے صرف دھمکانے کی ضرورت ہے جس کے بعد ان کا مخالف، ہتھیار ڈال دے گا۔
وٹکاف نے کہا: "ٹرمپ نے آج صبح مجھ سے ایران کی ریڈ لائنز کے بارے میں پوچھا اور میں یہ ان کے لئے 'مایوس' کا لفظ تو استعمال نہیں کروں گا۔۔۔ لیکن بہرحال وہ وہ متجسس ہیں کہ اس قسم کے دباؤ میں، اس قدر بحری طاقت اور فوجی قوت کے با وجود ـ جو ہم نے وہاں تعینات کی ہے ـ وہ ہمارے پاس کیوں نہیں آئے اور کیوں نہیں کہا کہ "ہم تو بس اعلان کرتے ہیں، کہ ہمیں ہتھیار نہیں چاہئے!"
دوسری طرف سے، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ٹرمپ کا کرارا سا جواب دیتے ہوئے ایکس پلیٹ فارم میں اپنے اکاؤنٹ پر لکھا: "ٹرمپ نے ہماری استقامت کےبارے میں متجسس ہوکر پوچھا ہے کہ ایرانی ہماری فوجی طاقت کو دیکھ کر بھی ہتھیار کیوں نہیں ڈالتے؟ تو میں انہیں جواب دیتا ہوں یوں کہ "کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ہم کیوں ہتھیار نہیں ڈالتے؟ اس لئے کہ ہم 'ایرانی' ہیں"۔
ایک روداد اور چند نکات
وٹکاف کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ ایران کے سامنے اپنی طاقت کے مظاہرے سے کس قسم کی ناپختہ توقعات رکھتے ہیں، یہ بات نہ صرف امریکی صدر کی اصل نیت سے پردہ اٹھاتی ہے بلکہ اس نکتے کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی حکمران ابھی تک ایران سے کو نہیں جانتے پہچانتے۔
ٹرمپ کی انتظآمیہ میں امریکہ "جنگی بحری جہازوں کی سفارت کاری" کی طرف پلٹ گیا جس سے معلوم ہؤا کہ اس ملک کے صدر کو توقع ہے کہ جیسے ہی امریکی بحری جہاز کسی ملک کی طرف بڑھ جائیں وہ ممالک ـ ، بالکل 1960 اور 1970 کی دہائیوں کی طرح، ـ ہاتھ اٹھائیں گے اور سر تسلیم خم کریں گے، ہتھیار ڈالیں کے اور اپنی خودمختاری اور سالمیت کو امریکی فوجیوں کی جولی میں ڈال دیں گے۔
ٹرمپ نے یہ حربہ وینزویلا میں آزمایا اور کراکاس پر دباؤ ڈال کر، بالآخر اس ملک کے قانونی صدر کو ایک پرتشدد کارروائی میں اغوا کروا لیا۔
لیکن اب وہ اس جنگی بحری جہازوں کے حربے کو ایران جیسے ملک کے خلاف آزمانا چاہتا ہے جس کے حالات وینزویلا سے بالکل مختلف ہیں۔ جیسا کہ مڈل ایسٹ آئی کے مدیر ڈیوڈ ہرسٹ کہتے ہیں، "ایران، وینزویلا نہیں ہے" اور واشنگٹن کو تہران کا سامنا کرتے وقت اس حقیقت کو مدنظر رکھنا چاہئے۔
رعایتیں حاصل کرنے کے لئے بحری بیڑوں کی تعیناتی!
وٹکاف کے الفاظ سے ایک نکتہ اور بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ وہ خود بھی امریکی صدر بھی اور امریکی ریاست بھی ـ ایران کے ساتھ تناؤ کے نئے دور میں ـ وائٹ ہاؤس کی گھسی پٹی اور مسلسل ناکام رہنے والی حکمت عملی سے کام لے رہے ہیں: بیک وقت 'دھونس دھمکی' + 'طیارہ بردار بحری جہازوں کی روانگی اور تعیناتی' اس لئے کہ تہران دباؤ میں آکر ان خطرات کے زیر اثر مذاکرات کے دوران رعایتیں دیں۔ یہ ایک تجزیہ نہیں بلکہ یہ وہ ناقص امریکی حکمت عملی ہے جس کا اعلان خود امریکی صدر نے کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دباؤ رعایتیں حاصل کرنے کے لئے ہے اور اب وٹکاف کے الفاظ میں بھی اس کی تائید ہوئی ہے۔
اس سے قبل ریاست شمالی کیرولینا میں فورٹ بریگ کے فوجی اڈے پر جب پوچھا گیا کہ "جنگی بحری جہاز ایران کی طرف کیوں روانہ کئے گئے ہیں تو ٹرمپ نے کہا تھا: "ایرانیوں کو ڈرانے کے لئے۔"
اب ٹرمپ نے ایک بار پھر وٹکاف کے ساتھ گفتگو میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ تہران امریکہ کے جنگی بحری جہازوں کی علاقے میں تعیناتی سے متاثر کیوں نہیں ہوتا، یعنی "ایرانی بھاری امریکی جنگی مہم کے باوجود ڈرتے کیوں نہيں؟" اور وٹکاف کے خیال میں وہ "متجسس ہیں کہ ایرانیوں نے اتنے شدید دباؤ میں اکر ہتھیار کیوں نہیں ڈالے۔"
وہ تجربہ جس سے ٹرمپ نے کچھ بھی نہیں سیکھا
ایران میں اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد سے، ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے اسلامی نظام کو ناکام بنانے کے لئے مختلف طریقے آزمائے ہیں: طبس میں فوج بھیجنے اور ایران کے ساتھ جنگ میں صدام کی مدد کرنے کے دو واقعات کے ساتھ ساتھ، خلیج فارس میں امریکہ کا ایران کے ساتھ فوجی تصادم، جس کا تعلق مسلط کردہ جنگ کے آخری دو سالوں سے ہے، ایک ایسا تجربہ ہے جس سے امریکیوں نے کوئی اچھا تجربہ حاصل نہیں کیا۔
سنہ 1987-1988 کے دوران پیش آنے والے تصادم کے سلسلے میں، نہ صرف ایران ہارنے والا فریق نہیں تھا، بلکہ وہ کبھی بھی امریکہ کی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہؤا اور بار بار خلیج فارس میں امریکی افواج کا سامنا کیا اور پھر بھی ایران ہارنے والا فریق نہیں تھا بلکہ امریکہ کو حالات سے سمجھوتہ کرنا پڑا۔
اُس وقت مسلط کردہ جنگ شروع ہوئے کم از کم سات سال گذر چکے تھے اور ایران بعثی عراق کے ساتھ ایک طویل جنگ کے نقصانات سے متاثر تھا۔ لیکن تمام تر کوتاہیوں کے باوجود اس نے خلیج فارس میں امریکہ کے مقابلے میں قابل قبول کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
لیکن، امریکی صدر اب بھی ـ ایران کی اس زمانے سے بالکل مختلف پوزیشن، زبردست عوامی حمایت، مقامی فوجی طاقت اور علاقائی دوستوں کو مدنظر رکھے بغیر، اپنی [ایکسپائرڈ] بحری بیڑوں کی سفارت کاری کے خواب دیکھ رہے ہیں!
سعودی عرب کے مصنف اور یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر "احمد التویجری" کے مطابق: "ایران کے پاس کھیلنے کے لئے بہت سارے کارڈ ہیں اور یہ کارڈ بہت تباہ کن ہیں"۔
نکتہ:
ایران ایک طاقتور ملک ہے، جسے گھیرا نہیں جا سکتا اور اس کی صلاحیتیں اتنی ہیں کہ بڑی طاقت کہلوانی والی امریکی ریاست کو اس سے رعایتیں لینے کے لئے اپنی پوری قوت علاقے میں لانا پڑتی ہے اور یہ پھر بھی خوفزدہ نہیں ہوتا۔ ولایت فقیہ کا ایران، امریکہ کو ایک بار واپسی اور پسپائی پر مجبور کر رہا ہے؛ اسلامی ایران، جو اللہ کی نصرت پر یقین کامل رکھتا ہے۔ ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی رضا محمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ